Loader

انتڑیوں کی سوزش کے لیے اسٹابری مفید ہو سکتی ہے

By : | 0 Comments | On : January 3, 2021 | Category : Health Tips, اردو

سیب کی طرح ایک پیالا اسٹابری کا بھی آپ کو ڈاکٹر سے دور رکھ سکتا ہے۔ ماہرین حیاتیات کو انسانی جسم کے نظام ہضم کی پیچیدگیوں کو رفع کرنے میں خاص طور پر اسٹابری کے بے بہا فوائد نظر آئے ہیں۔ دنیا بھر میں لاکھوں افراد انتڑیوں کی سوزش، کروہن کی بیماری (اِس کا تعلق بھی منہ سے مقعد کے راستے میں پیدا ہونے والے عوارض سے متعلق ہے) یا کولن کی جھلی میں ورم میں مبتلا ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایسے امراض میں مبتلا افراد اپنے معالج سے بھی انہیں بیان کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں اور اس مرض کو بہت ہی پرائیویٹ خیال کرتے ہیں۔بیالوجیکل ریسرچرز مسلسل کروہن کی بیماری پر ریسرچ جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن تاحال وہ کوئی حتمی رائے قائم نہیں کر سکے کہ ایسی کوئی خوراک ہے، جس کے استعمال سے یہ بیماری لاحق ہوتی ہے۔ بعض اوقات ماحولیاتی تبدیلیوں، خوراک خوری کی عادات، سگریٹ نوشی اور حفظان صحت کے اصولوں پر نہ عمل کرنے سے بھی کروہن بیماری لاحق ہو جاتی ہے۔معالجین کا خیال ہے کہ انتڑیوں یا نظام ہضم کے عضویات سے جڑے جسمانی عوارض (آئی ایم بی) کے مو¿ثر علاج میں بعض سبزیاں اور پھل انتہائی مفید ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی خیال کیا گیا ہے کہ ان کے استعمال سے مکمل صحت یابی اگر ممکن نہیں تو بہتری کا امکان یقینی طور پر موجود ہے۔ بعض معالجین نے اسٹابری کو انتڑیوں سے منسلک پیچیدگیوں کے لیے ایک بہترین غذا و دوا قرار دیا ہے۔اسٹابری کو انسانی نظام ہضم کے لیے ایک بہترین خوراک قرار دیا گیا ہےامریکا کی میساچوسٹس یونیورسٹی کے محققین نے بھی اپنی ریسرچ کے بعد خیال ظاہر کیا ہے کہ اسٹابری کے آئی ایم بی عارضے میں فائدے یقینی ہیں۔ اسی طرح یہ کروہن کی بیماری کے لیے بھی انتہائی مفید ہے۔ اس کے علاوہ کولن کی جھلی کے ورم کو کم کرنے میں بھی اسٹابری غذا بھی ہے اور دوا بھی۔اسٹابری کے انسانی نظام ہضم پر مثبت اثرات کے حوالے سے ایک ریسرچ ڈاکٹر ہانگ شیاو¿ کی ٹیم نے مکمل کی ہے۔ میساچوسٹس یونیورسٹی کے شعبہ فوڈ سائنسز سے منسلک پروفیسر ہانگ شیاو¿ کے تجربات سے بھی معلوم ہوا ہے کہ انتڑیوں کے دائمی امراض کے لیے اسٹابری جہاں مفید ہے وہاں انسانی انتڑیوں میں پائے جانے والے نقصان دہ بیکٹیرا کے خاتمے لیے بھی زود اثر ہے۔ڈاکٹر ہانگ شیاو¿ کی ٹیم نے اب اگلے مرحلے میں انتڑیوں کے سوزشی عوامل یا انفلیمیٹری بول ڈیزیز (IMB) کے خاتمے یا کمی کے حوالے سے اسٹابری کے ممکنہ اثرات کو اپنی ریسرچ کا موضوع بنایا ہے۔ ان محققین نے یہ تلقین بھی کی ہے کہ کروہن کی بیماری یا انتڑیوں کے عوارض میں مبتلا افراد اسٹابری کا استعمال اپنے ذاتی معالج کے ساتھ مشورہ کرنے کے بعد کریں۔

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *